تم پہلے تو عرب کے جزیرہ میں (کافروں سے) جہاد کرو گے، اللہ تعالیٰ اس کو فتح کر دے گا۔ پھر فارس (ایران) سے جہاد کرو گے، اللہ تعالیٰ اس پر بھی فتح کر دے گا ،پھر روم والوں سے، اللہ تعالیٰ روم کو بھی فتح کر دے گا۔ پھر دجال سے لڑو گے اور اللہ تعالیٰ اس کو بھی فتح کر دے گا۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
نافع بن عتبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے تو آپ ﷺ کے پاس کچھ لوگ مغرب کی طرف سے آئے جو اون کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ وہ رسول اللہ ﷺ سے ایک ٹیلے کے پاس آ کر ملے۔ وہ لوگ کھڑے تھے اور آپ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے۔ میرے دل نے کہا کہ تو چل اور ان لوگوں اور آپ ﷺ کے درمیان میں جا کر کھڑا ہو، ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ فریب سے آپ ﷺ کو مار ڈالیں۔ پھر میرے دل نے کہا کہ شاید آپ ﷺ وسلم ان سے چپکے چپکے باتیں کر رہے ہوں (اور میرا جانا آپ ﷺ کو ناگوار گزرے)۔ پھر بھی میں وہاں چلا گیا اور ان لوگوں کے اور آپ ﷺ کے درمیان میں کھڑا ہو گیا۔ پس میں نے اس وقت آپ ﷺ سے چار باتیں یاد کیں، جن کو میں اپنے ہاتھ پر گنتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم عرب کے جزیرہ میں(کافروں سے) جنگ کرو گے، اللہ تعالیٰ اس کو فتح کر دے گا۔ پھر ملکِ فارس (ایران) سے جنگ کروگے، اللہ تعالیٰ اس پر بھی تمہیں فتح دے گا، پھر روم والوں سے جنگ کرو گے، اللہ تعالیٰ روم کو بھی زیر کر دے گا، پھر دجال سے جنگ کرو گے اور اللہ تعالیٰ اس پر بھی فتح دے گا۔ نافع نے کہا کہ اے جابر بن سمرہ! ہم سمجھتے ہیں کہ دجال روم فتح ہونے کے بعد ہی نکلے گا۔
Explanation
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

