HadeethEnc · 1.36.0
اس شخص کو دیکھو! مچھر کی جان لینے کے تاوان کا مسئلہ پوچھتا ہے، حالاں کہ اس کے ملک والوں نے رسول اللہ ﷺ کے نواسہ کو قتل کر ڈالا۔ اور میں نے نبی ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ: یہ دونوں (حسن اور حسین رضی اللہ عنہما ) دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔
Available translations
Choose an available translation of this Hadeeth
01
متن حدیث
ابو نعیم فرماتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں موجود تھا ان سے ایک شخص نے (حالتِ احرام میں) مچھر مارنے کے متعلق پوچھا (کہ اس کا کیا کفارہ ہوگا) ابن عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا کہ تم کہاں کے ہو ؟ اس نے بتایا کہ عراق سے، فرمایا: اس شخص کو دیکھو! مچھر کی جان لینے کے تاوان کا مسئلہ پوچھتا ہے، حالانکہ اس کے ملک والوں نے رسول اللہ ﷺ کے نواسہ کو قتل کر ڈالا۔ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ: ”یہ دونوں (حسن اور حسین رضی اللہ عنہما) دنیا میں میرے دو پھول ہیں“۔
02
تشریح
اہل عراق میں سے ایک شخص نے عبداللہ بن عمر سے سوال کیا کہ حالت احرام میں چھوٹے چھوٹے حشرات جو تکلیف پہنچاتے ہیں جیسا کہ مچھر وغیرہ کیا ان کو مارا جا سکتا ہے یا نہیں؟تو انہوں نے تعجب اور حیرت کے ساتھ اس مثال کو استعمال کرتے ہوئے ان کے معاملا ت اور کبائر کے ارتکاب پر جرات کو بیان کیا۔فرمایا: اس شخص کو دیکھو! مچھر کی جان لینے کے تاوان کا مسئلہ پوچھتا ہے، حالانکہ اس کے ملک والوں نے رسول اللہ ﷺ کے نواسہ کو قتل کر ڈالا۔یعنی تباہی اور نواسہ رسول کو قتل کاارتکاب کرنے والے اب مناسک کی ادائیگی میں کمال تقویٰ اور خوف کا اظہار کرتے ہیں اور مچھر کے مارنے کا سوال کرتے ہیں۔پھر کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا : یہ دونوں (حسن اور حسین رضی اللہ عنہما ) دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔ یعنی یہ میری اولاد ہیں جن کو میں سونگھتا اور بوسہ دیتا ہوں گویا کہ سب کے لیے پاکیزہ پھول ہیں جن سے لوگ خوشبو لیں گے۔
Attribution
[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
زمرے
شیئر کریں
حدیث شیئر کریں
Sharing options
2مشاہدات0کارڈز0شیئرز

