مسجد ميں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے مٹی میں دبا دینا ہے
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسجد ميں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے مٹی میں دبا دینا ہے“۔
Explanation
اگر بلا ارادہ غلطی سے تھوکا جائے تو یہ ایک غلطی ہے جس کا گناہ معاف ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آدمی جان بوجھ کر مسجد میں تھوکے اور پھر اسے دفن کر دے۔ کیونکہ نبی ﷺ نے مسجد میں محض تھوک کی موجودگی کو گناہ قرار دیا ہے۔ اس کی تایید اس حدیث سے ہوتی ہے جو صحیح بخاری (414) اور صحیح مسلم (548) میں آئی ہے کہ آپ ﷺ کو مسجد کی دیوار پر بلغم لگا ہوا نظر آیا جس کی موجودگی آپ ﷺ پر بہت گراں گزری۔ آپ ﷺ نے اٹھ کر اسے اپنے ہاتھ سے کھرچ دیا۔
جو شخص بلا ارادہ مسجد میں تھوک بیٹھے اور پھر وہ چاہے کہ اللہ اسے معاف کر دے اور اس کے اس گناہ کو مٹا دے تو اسے چاہیے کہ وہ فوراً اسے مسجد سے زائل کردے، بایں طور کہ اگر مسجد کنکریوں والی ہو تو اسے دفن کر دے اور اگر مسجد فرش والی ہو تو پھر اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے کھرچ ڈالے یہاں تک کہ وہ زائل ہو جائے۔ اگر یہ باقی رہ گیا تو یہ ایک پاپ ہے اور جب تک باقی رہے گا وہ شخص گناہ گار ہوتا رہے گا۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میرے سامنے میری امت کے اچھے اور برے اعمال پیش کئے گئے۔ میں نے اپنی امت کے اچھے اعمال میں راستے سے تکلیف دہ شے کو ہٹانا بھی دیکھا اور اس کے برے اعمال میں مسجد میں پڑا وہ بلغم بھی پایا جسے دفن نہ کیا گیا ہو“۔ (مسلم)
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

