ابوبکر چھوڑ دو یہ عید کے دن ہیں ۔اور وہ ایام منیٰ تھے۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے ہاں ( منیٰ کے دنوں میں ) تشریف لائے اس وقت گھر میں دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور نبی کریم ﷺ چہرہ مبارک پر کپڑا ڈالے ہوئے تشریف فرما تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو ڈانٹا۔ اس پر آپ ﷺ نے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹا کر فرمایا کہ ابوبکر چھوڑ دو یہ عید کے دن ہیں، اور وہ ایام منیٰ تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے مجھے چھپا رکھا تھا اور میں حبشہ کے لوگوں کو دیکھ رہی تھی جو مسجد میں تیروں سے کھیل رہے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا لیکن نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جانے دو اور ان سے فرمایا اے بنو ارفدہ! تم بے فکر ہو کر کھیل دکھاؤ۔
Explanation
1۔ وہ گروہ جو اسلام کی شدت اور سختی کے ڈر سے دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوئے انہیں یہ باور کرانا کہ اسلام کشادگی اور وسعت پر مبنی دین ہے، خاص طور پر یہودیوں کو جو خود بھی اس سے گریزاں رہتے اور دوسروں کو بھی اس سے منع کرتے۔اس لیے حدیث کے بعض الفاظ میں آیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نےانہیں اس سے روکا تو آپ ﷺ نےفرمایا: "انہیں ایسا کرنے دو تا کہ یہودیوں کو معلوم ہو کہ ہمارے دین میں وسعت ہے اور میں کشادگی پر مبنی دینِ حنيف کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہوں"۔
2- ان كایہ کھیل کود عید کے دن تھا ۔اور عید کے ایام خوشی و مسرت کے ایام ہوتے ہیں جن میں مباحات میں توسع ہوتی ہے۔
3۔ یہ ایک مردانہ کھیل تھا جس میں خشونت، جوش اور اظہارِ شجاعت تھا۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

