جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو گویا وہ اپنے رب کے ساتھ سرگوشی کرتا ہے، یا یوں فرمایا کہ اس کا رب اس کے اور قبلہ کے درمیان ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی شخص ( نماز میں اپنے ) قبلہ کی طرف نہ تھوکے۔ البتہ بائیں طرف یا اپنے قدموں کے نیچے تھوک سکتا ہے۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
انس بن مالک روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے قبلہ کی طرف (دیوار پر) بلغم کو لگے دیکھا جو آپ کو ناگوار گزرا اور یہ ناگواری آپ کے چہرۂ مبارک پر دکھائی دینے لگی۔ پھر آپ ﷺ اٹھے اور خود اپنے ہاتھ سے اسے کھرچ ڈالا اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو گویا وہ اپنے رب کے ساتھ سرگوشی کرتا ہے، یا یوں فرمایا کہ اس کا رب اس کے اور قبلہ کے درمیان ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی شخص (نماز میں اپنے) قبلہ کی طرف نہ تھوکے۔ البتہ بائیں طرف یا اپنے قدموں کے نیچے تھوک سکتا ہے۔ پھر آپ نے اپنی چادر کا کنارہ لیا، اس پر تھوکا پھر اس کو الٹ پلٹ کیا اور فرمایا: یا اس طرح کر لیا کرے۔
Explanation
نمازی کے لئے ضروری ہے کہ وہ یہ اس بات كا احساس ركھے کہ وہ اللہ تعالی کے سامنے ہے اوریہ کہ وہ اس کی طرف متوجہ ہے اگرچہ وہ آسمان پر اپنے عرش پر ہے، پھر بھی وہ نمازی کے سامنے ہوتا ہے کیوں کہ وہ ہر شے کو محیط ہے۔ ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾ ”اس جیسی کوئی چیز نہیں وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے“ (سورہ شوری: 11)۔
اس کا یہ معنی ہر گز نہیں کہ وہ لوگوں کے ساتھ گھل مل گیا ہے یا پھر وہ اس جگہ پر ہوتا ہے جہاں نمازی نماز ادا کرتا ہے۔ اللہ تعالی ان باتوں سے بالا تر ہے۔ اللہ تعالی نمازی اور دعا کرنے والے کے اس طور پر قریب ہوتا ہے جو اس کی عظمت کے شایان شان ہے۔ اللہ کا قرب ایسا نہیں ہوتا جیسا مخلوق کا مخلوق سے قرب ہوتا ہے۔ بلکہ یہ تو خالق بزرگ و برتر کا مخلوق کے ساتھ قرب ہے۔ مخلوقات میں اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے سورج ہوتا ہے۔ سورج گو آپ کے اوپر ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ طلوع و غروب ہونے کی حالت میں آپ کے سامنے بھی ہوتا ہے۔ وللہ المثل الأعلى.
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

