HadeethEnc · 1.36.0
ابن عباس رضی اللہ عنہما اور محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ کیا نبی ﷺ کوئی شے چھوڑ کر گئے؟ تو ان دونوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ نے صرف وہی کچھ چھوڑا جو مصحف کے دو دفتیوں کے مابین ہے۔
Available translations
Choose an available translation of this Hadeeth
01
Hadeeth text
عبد العزیز بن رفیع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں اور شداد بن معقل رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تو شداد بن معقل نے ان سے پوچھا: کیا نبی ﷺ کچھ چھوڑ کر گئے؟۔ انہوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ نے صرف وہی کچھ چھوڑا ہے جو مصحف کے دو دفتیوں کے مابین ہے۔ عبد العزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ ہم محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ کے پاس آئے تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ آپ ﷺ نے صرف وہی کچھ چھوڑا ہے جو مصحف کے دو دفتیوں کے مابین ہے۔
02
Explanation
دو جلیل القدر تابعی یعنی عبد العزیز بن رفیع رحمہ اللہ اور شداد بن معقل رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے ۔ شداد بن معقل نے ان سے سوال کیا کہ کیا نبی ﷺ اپنے وفات کے بعد کوئی شے چھوڑ کر گئے تھے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ آپ ﷺ نے اپنی وفات کے بعد صرف اور صرف قرآن ہی کو چھوڑا ہے جو مصحف کے دونوں دفتیوں کے مابین ہے۔ پھر وہ محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ کے پاس آئے اور ان سے بھی یہی سوال کیا ۔ اس حدیث سے روافض کے مذہب کا ابطال ہوتا ہے جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ قرآن میں علی رضی اللہ عنہ کی امامت کی نص موجود تھی لیکن صحابہ نے اسے چھپا لیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما علی رضی اللہ عنہ کے چچا زاد بھائی ہیں اور محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ علی رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں۔ لوگوں میں سے یہ دونوں علی رضی اللہ عنہ کے سب سے زیادہ قریب رہے۔ اگر واقعی کوئی ایسے بات ہوتی جس کا روافض دعوی کرتے ہیں تو اس سے آگاہ ہونے کا سب سے زیادہ حق انہی کا تھا اور ان سے بہرحال یہ چھپی نہ رہ سکتی۔ بلکہ خود علی رضی اللہ عنہ سے بھی اس طرح کی بات مروی ہے۔
Attribution
[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
Categories
Share
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

