تم میں سے جو موجود ہیں، وہ ان لوگوں کو بتا دیں، جو موجود نہیں ہیں کہ فجر کے طلوع ہونے کے بعد دو رکعت (سنت) کے علاوہ کوئی اور (نفل) نماز نہ پڑھیں۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
یسار جو ابن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام ہیں، سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے طلوع فجر کے بعد (نفل) نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو کہا: اے یسار! ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے، تو ہم ایسی ہی نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جو موجود ہیں، وہ ان لوگوں کو بتا دیں، جو موجود نہیں ہیں کہ فجر کے طلوع ہونے کے بعد دو رکعت (سنت) کے علاوہ کوئی اور (نفل) نماز نہ پڑھیں“۔
Explanation
چنانچہ جب فجر طلوع ہو جائے تو مسلمان کے لیے نماز فجر کی دو رکعت (سنت) کے علاوہ جائز نہیں کہ کوئی اور نفل نماز پڑھے، جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا اور سب سے بہتر طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہی ہے۔
جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ طلوع فجر کے بعد سوائے سنتوں کے کوئی نفل نماز نہیں ہے، تو یہ وقت ان اوقات میں شمار کیا جائے گا، جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

