بنو زریق کے ایک شخص لبید بن اعصم نے رسول اللہ ﷺ پر جادو کر دیا تھا اور اس کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کسی چیز کے متعلق خیال کرتے کہ آپ نے وہ کام کر لیا ہے حالاں کہ آپ نے وہ کام نہ کیا ہوتا۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ بنو زریق کے ایک شخص لبید بن اعصم نے رسول اللہ ﷺ پر جادو کر دیا تھا اور اس کی وجہ سے نبی ﷺ کسی چیز کے متعلق خیال کرتے کہ آپ نے وہ کام کرلیا ہے حالانکہ آپ نے وہ کام نہ کیا ہوتا- ایک دن یا (راوی نے بیان کیا کہ) ایک رات نبی ﷺ میرے یہاں تشریف فرما تھے اور مسلسل دعا کر رہے تھے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! تمہیں معلوم ہے اللہ سے جو بات میں پوچھ رہا تھا، اس نے اس کا جواب مجھے دے دیا۔ میرے پاس دو آدمی آئے، ایک میرے سرہانے کھڑا ہو گیا اور دوسرا میرے پاؤں کی جانب - ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے پوچھا ان صاحب کی بیماری کیا ہے؟ دوسرے نے کہا کہ ان پر جادو ہوا ہے - اس نے پوچھا کس نے جادو کیا ہے؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم نے - پوچھا کس چیز میں؟ جواب دیا کہ کنگھے اور سر کے بال میں جو نر کھجور کے خوشے میں رکھے ہوئے ہیں- سوال کیا اور یہ جادو ہے کہاں؟ جواب دیا کہ ذرو ان کے کنویں میں۔ پھر نبی ﷺ اس کنویں پر اپنے چند صحابہ کے ساتھ تشریف لے گئے اور جب واپس آئے تو فرمایا: ”عائشہ! اس کا پانی ایسا (سرخ) تھا جیسے مہندی کا نچوڑ ہوتا ہے اور اس کے کھجورکے درختوں کے سر (اوپر کا حصہ) شیطان کے سروں کی طرح تھے“ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے اس جادو کو باہر کیوں نہیں کر دیا؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے عافیت دے دی اس لیے میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ اب میں خواہ مخواہ لوگوں میں اس برائی کو پھیلاؤں“ پھر نبی ﷺ نے اس جادو کے سامان کو دفن کرنے کا حکم دیا چنانچہ اسے دفن کر دیا گیا۔
Explanation
بعض لوگوں نے نبی ﷺ پر جادو کیے جانے والے قصے کا انکار کیا ہے، ان کا گمان ہے کہ اس سے عصمتِ نبی ﷺ پرحرف آتا ہے، اس احتمال کی وجہ سے کہ آپ ﷺ کو خیال ہوتا تھا کہ جبریل کو دیکھا ہے حالانکہ انہیں نہیں دیکھے ہوتے، خیال ہوتا کہ آپ ﷺ کی طرف وحی کی گئی اور وحی نہیں کی گئی ہوتی۔ یہ ساری کی ساری باتیں مردود ہیں کیوں کہ اللہ تعالی کی طرف سے نازل کردہ باتوں کی حفاظت اور تبلیغ سے متعلق عصمت پر دلیل ثابت شدہ ہے۔ جادو کے ضرر کی وجہ سے آپ ﷺ کو جو تکلیف پہنچی تھی وہ تبلیغ کے سلسلے میں کسی کمی سے متعلق نہیں تھی بلکہ وہ دیگر امراض وآفات کے قبیل سے تھی جس کا صدور ممکن ہے اور جادو سے جو تکلیف آپ ﷺ کو پہنچی تھی اس کی تشریح ووضاحت اور دیگر روایات میں موجود ہے، اور وہ تکلیف یہ تھی کہ آپ ﷺ کوخیال گزرتا کہ آپ اپنی بیوی کے پاس گئے ہیں حالانکہ کسی بیوی کے پاس نہیں گیے ہوتے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

