HadeethEnc · 1.36.0
میری امت کی ہلاکت، طعنہ زنی اور طاعون میں ہے۔
Available translations
Choose an available translation of this Hadeeth
01
Hadeeth text
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کی ہلاکت، طعنہ زنی اور طاعون میں ہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! طعنہ زنی کو تو ہم جانتے ہیں، طاعون کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تمہارے دشمن جنات کا طعنہ ہے۔ اور (طاعون ہو یا طعنہ زنی) ہر ایک میں شہداء ہیں۔
02
Explanation
نبی ﷺ اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ اس امت کے اکثر افراد کی موت و ہلاکت، دو چیزوں سے ہوگی: پہلی یہ کہ ان کے اور کفار کے درمیان ہونے والی جنگوں میں ہتھیاروں سے ان کے قتل اور خود مسلمانوں کے درمیان وقوع پذیر ہونے والے فتنوں میں ایک دوسرے کو قتل کی وجہ سے ہو ہوگا۔
دوسری چیز طاعون ہے جو انتہائی تیزی سے پھیلنے والی موت ہے اور یہ مسلمانوں کے دشمن کافر جنات کی طعنہ زنی کے سبب ہوتی ہے، اس کے اور طاعون کے لازمی اثر یعنی جراثیم وغیرہ کے پائے جانے میں کوئی منافات نہیں، یہ جراثیم وغیرہ گویا کہ علامت اور نشانی ہے جس سے طاعون کا پتہ چلتا ہے جو کہ اصل میں سرکش جنوں کا طعنہ ہے۔ اور جس مسلمان کی قتل یا طاعون سے موت واقع ہوجائے تو وہ شہید کا درجہ پائے گا۔
اس حدیث کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ اس سے دعاء مقصود ہے یعنی نبی ﷺ نے اپنی امت کے حق میں دعا فرمائی کہ ان دو قسموں میں سے کسی ایک کے ذریعہ انہیں موت نصیب ہو تاکہ انہیں شہادت کا مرتبہ حاصل ہو، تاہم پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی سب سے زیادہ جاننے والی ہے!
دوسری چیز طاعون ہے جو انتہائی تیزی سے پھیلنے والی موت ہے اور یہ مسلمانوں کے دشمن کافر جنات کی طعنہ زنی کے سبب ہوتی ہے، اس کے اور طاعون کے لازمی اثر یعنی جراثیم وغیرہ کے پائے جانے میں کوئی منافات نہیں، یہ جراثیم وغیرہ گویا کہ علامت اور نشانی ہے جس سے طاعون کا پتہ چلتا ہے جو کہ اصل میں سرکش جنوں کا طعنہ ہے۔ اور جس مسلمان کی قتل یا طاعون سے موت واقع ہوجائے تو وہ شہید کا درجہ پائے گا۔
اس حدیث کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ اس سے دعاء مقصود ہے یعنی نبی ﷺ نے اپنی امت کے حق میں دعا فرمائی کہ ان دو قسموں میں سے کسی ایک کے ذریعہ انہیں موت نصیب ہو تاکہ انہیں شہادت کا مرتبہ حاصل ہو، تاہم پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی سب سے زیادہ جاننے والی ہے!
Attribution
[اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]
Categories
Share
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

