میں کیسے چین سے رہ سکتا ہوں جب کہ صور پھونکنے والا صور کو منہ سے لگائے ہوئے اور اپنی پیشانی جھکائے ہوئے اور اپنا کان لگائے ہوئے، انتظار میں ہے کہ اسے صور پھونکنے کا حکم دیا جائے تو وہ فوراً صور پھونک دے۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں کیسے چین سے رہ سکتا ہوں جب کہ صور پھونکنے والا صور کو منہ سے لگائے ہوئے اور اپنی پیشانی جھکائے ہوئے اور اپنا کان لگائے ہوئے، انتظار میں ہے کہ اسے صور پھونکنے کا حکم دیا جائے تو وہ فوراً صور پھونک دے“، مسلمانوں نے کہا: ہم (ایسے موقعوں پر) کیا کہیں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا کہو :﴿حسبُنا اللهُ ونِعْمَ الوَكيلُ توكَّلنا على اللهِ ربّنا﴾ ”ہمیں اللہ کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے، ہم نے اپنے رب اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے“۔ راوی کہتے ہیں کہ کبھی کبھی سفیان نے ”توكَّلنا على اللهِ ربِّنا“ کے بجائے ”على الله توكَّلنا“ روایت کرتے۔ (یعنی ہم نے اپنے رب اللہ پر بھروسہ کیا ہے)۔
Explanation
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

