رسول الله ﷺ جنابت کی حالت میں پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سو جاتے تھے۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ رسول الله ﷺ جنابت کی حالت میں پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سو جاتے تھے۔
Explanation
دوسرا احتمال: یہ ہے کہ آپ ﷺ غسل کے لیے پانی کو نہ چھوتے تھے نہ کہ وضوء کے لیے۔یہ مفہوم صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ان احادیث سے موافقت رکھتا ہے جن میں صراحت کے ساتھ اس بات کا بیان ہے کہ آپ ﷺ بعد ازجماع سونے کے لیے اور کھانے، پینے اور دوبارہ جماع کے لیے اپنی شرمگاہ کو دھوتے اور وضو کرتے تھے۔
ان میں سے ایک وہ حدیث ہے جو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے جس میں آتا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ: اے اللہ کے رسول! کیا ہم میں سے کوئی شخص حالت جنابت میں سو سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں بشرطیکہ وہ وضوء کرلے“۔ متفق علیہ۔
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے جنبی شخص کو رخصت دی کہ جب اس کا کھانے پینے یا سونے کا ارادہ ہو تو نماز کے لئے کیا جانے والا وضو کر لے۔۔ اس حدیث کو امام احمد اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے اورامام ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ تاہم اس تاویل کو حدیث کا عموم مسترد کرتا ہے۔
بہتر یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ: نبی ﷺ جواز کو بیان کرنے کے لیے بعض اوقات بالکل بھی پانی کو نہیں چھوتے تھے۔ کیونکہ آپ ﷺ اگر ہمیشہ ایسا کیا کرتے تو اس سے اس کے فرض ہونے کا وہم ہوتا۔ لہٰذا آپ ﷺ نے امت کے لیے آسانی اورسہولت پیدا کرنے کی غرض سے بعض اوقات پانی کے استعمال کو چھوڑ دیا۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

