رسول اللہ ﷺ نے مسافر کے لیے (موزوں پر مسح کرنے کی مدت)تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات مقرر فرمائی ہے
Choose an available translation of this Hadeeth
متن حدیث
شریح بن ہانی بیان بیان کرتے ہیں کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں پوچھنے آیا (کہ اس کی مدت کتنی ہے؟)، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ابن ابی طالب کے پاس جا کر پوچھو کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے۔ چنانچہ ہم نے علی رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے مسافر کے لیے (موزوں پر مسح کرنے کی مدت)تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات مقرر فرمائی ہے۔
تشریح
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس کی مدت مسافر کے لئے تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات ہے۔ اس میں جمہور علماء کے مسلک کی دلیل ہے کہ مسح کی مدت مسافر کے لئے تین دن اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات ہے۔ مسافر کی مدت زیادہ اس لیے رکھی گئی ہے کیونکہ سفر کی مشقت کی وجہ سے وہ مقیم کی بنسبت رخصت کا زیادہ حق دار ہے۔
Attribution
زمرے
حدیث شیئر کریں
Sharing options

