افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم.
#10112[صحیح]
HadeethEnc · 1.36.0

کیا میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورت نہ بتاؤں؟

Available translations

Choose an available translation of this Hadeeth

01

Hadeeth text

ابو سعید رافع بن المعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے کہا کہ مسجد سے نکلنے سے پہلے کیا میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورت نہ بتاؤ؟ آپ نے مجھے ہاتھ سے پکڑا، جب ہم نے باہر نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے کہا، اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ نے کہا تھا کہ میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورۃ بتاؤں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا وہ سورۂ الحَمْدُ للهِ رَبِّ العَالَمِينَ ہے، جو سبع مثانی ہے اور قرآنِ کریم جو مجھے دیا گیا ہے۔
02

Explanation

ابو سعید رافع بن المعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھ سے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”ألا“ یہ لفظ مخاطب کو ما بعد والی بات کی طرف متوجہ کرنے کے لیے آتا ہے۔ ” مسجد سے نکلنے سے پہلے کیا میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورت نہ بتاؤ؟“ آپ ﷺ نے ابتداءً نہیں بتایا بلکہ یہ جملہ کہا، اس لیے کہ یہ اسلوب ان کے ذہن میں بات ڈالنے اور ان کو اس طرف متوجہ کرنے کے زیادہ مناسب تھا۔ ”پس آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا“ یعنی یہ کہنے کے بعد جب ہم چلنے لگے، ”جب ہم نے باہر نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے کہا، اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ نے کہا تھا کہ میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورۃ بتاؤں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا وہ سورۂ الحَمْدُ للهِ رَبِّ العَالَمِينَ ہے“ یعنی سورہ فاتحہ قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورت ہے، یہ اس لیے کہ اس میں قرآنِ کریم کے تمام مقاصد جمع ہیں، اسی وجہ سے اسے اُمُّ القرآن کہتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ کے نبی ﷺ نے سورۃ فاتحہ کو ”سبعِ مثاني“ کا نام دے کر اسے باقی تمام سورتوں سے ممتاز کیا بلکہ اس کو ان سب میں سے بڑی سورت قرار دیا۔ ’مثاني‘ مثناة کی جمع ہے اور مثناة تثنیۃ سے ہے، اس لیے کہ یہ نماز کی ہر رکعت میں بار بار پڑھا جاتا ہے یا اس لیے کہ اس کے ساتھ دوسری سورت ملا کر اسے تثنیہ بنایا جاتا ہے یا اس کو ’مثاني‘ اس لیے کہتے ہیں کہ یہ دو قسموں پر مشتمل ہیں ثناء اور دعاء یا اس لیے کہ اس میں الفاظ کی فصاحت اور معانی کی بلاغت دونوں چیزیں جمع کی گئی ہیں یا اس لیے کہ زمانے کے گزرنے کے ساتھ اسے دُہرایا جاتا رہے گا، بار بار پڑھا جائے گا جس سے یہ ختم نہیں ہوگی، اسے پڑھایا جائے گا جس سے یہ سینوں سے نہیں مٹے گا یا اس لیے کہ اس کے فائدوں میں وقتاً فوقتاً تجدید ہوتی ہے، اس لیے کہ ان کی کوئی انتہاء نہیں یا اس کی وجہِ تسمیہ یہ ہے کہ ’مثناۃ‘، ’ثناء‘ سے ماخوذ ہے، کیوں کہ یہ سورت اللہ کی تعریف پر مشتمل ہے، گویا کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کے ذریعے اس کی تعریف کی جاتی ہے اور یا یہ ’الثنايا‘ سے ماخوذ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس امت کے لیے چُنا ہے۔ ”والقرآن العظيم“ یعنی اس سورت کو قرآن عظیم بھی کہتے ہیں۔ جو مجھے دیا گیا ہے۔ اس سورت کو قرآنِ عظیم کا نام اس لیے دیا گیا ہے کہ اس میں دنیا و آخرت سے متعلق تمام موجودات اور احکام و عقائد کو جمع کیا گیا ہے۔

Attribution

[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]

Categories

Share

Share hadeeth

Sharing options · 0 Total shares

Share

← Back to encyclopedia
Shopping Basket

Loading...