دو چیزیں جو لعنت کا سبب بنتی ہیں ان سے بچو۔ صحابہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! وہ دو چیزیں کون سی ہیں جو لعنت کا سبب بنتی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جو لوگوں کے راستوں یا ان کی سایہ دار جگہوں پر قضائے حاجت کرے۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو چیزیں جو لعنت کا سبب بنتی ہیں ان سے بچو۔ صحابہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! وہ دو چیزیں کون سی ہیں جو لعنت کا سبب بنتی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جو لوگوں کے راستوں یا ان کی سایہ دار جگہوں پر قضائے حاجت کرے۔
Explanation
یعنی تم اس بات کا سبب بنو گے کہ وہ اللہ کو برا بھلا کہیں کیوں کہ تم نے ان کے معبودوں کو برا بھلا کہا۔ اسی طرح آپ ﷺ نے منع فرمایا کہ کوئی اپنے باپ یا ماں کو گالی دے۔ صحابہ کرام نے پوچھا کہ: کیا کوئی اپنے ماں باپ کو بھی گالی دیتا ہے!؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں۔ آدمی کسی اور شخص کے باپ کو گالی دیتا ہے۔ جواباً وہ بھی اس کے ماں باپ کو گالی دیتا ہے۔ چنانچہ یہ ایسے ہی ہو گیا کہ گویا اس نے اپنے ہی باپ کو گالی دی کیوں کہ وہی اس کا سبب بنا ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: ایسی جگہوں پر پیشاب پاخانہ کرتا ہے جہاں لوگوں کا گزر ہوتا ہے اور جہاں ان کا آنا جانا رہتا ہے۔ اس عمل کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں، چاہے ایسا حالت اقامت میں ہو یا دورانِ سفر، کیوں کہ ایسا کرنے سے لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:﴿وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا﴾ ”اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایذا دیں بغیر کسی جرم کے جو ان سے سرزد ہوا ہو، وه (بڑے ہی) بہتان اور صریح گناه کا بوجھ اٹھاتے ہیں“۔ (الاحزاب: 58)
تاہم اگر راستہ غیر آباد ہو تو اس پر قضائے حاجت میں کوئی حرج نہیں کیوں کہ اب حرمت کی علت باقی نہیں رہی۔
آپ ﷺ نے فرمایا: کسی ایسی سایہ دار جگہ پر قضائے حاجت کرے جہاں لوگ دوپہر کو قیام کرتے ہوں اور پڑاؤ ڈالتے ہوں۔ تاہم ویران علاقوں میں موجود جگہیں جہاں لوگوں کا آنا جانا نہیں ہوتا، ان میں قضائے حاجت کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کیوں کہ یہاں بھی علت نہیں پائی جاتی اس لیے کہ آپ ﷺ خود کھجوروں کے جھنڈ میں قضائے حاجت کے لیے بیٹھے جو سایہ دار تھا۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

