سبحان اللہ ! یہ تو شیطان کی طرف سے ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ ایک ٹب میں بیٹھ جائیں، جب پانی کے اوپر زردی دیکھیں تو ایک غسل ظہر اور عصر کی نمازوں کے لیے، اسی طرح ایک غسل مغرب اور عشاء کی نمازوں کے لیے اور ایک غسل فجر کی نماز کے لیے کر لیا کریں اور ان کے مابین وضوء کرتی رہیں
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! فاطمہ بنت ابی حبیش کو اتنے دنوں سے استحاضہ کا خون آرہا ہے اور انہوں نے نماز نہیں پڑھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: سبحان اللہ ! یہ تو شیطان کی طرف سے ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ ایک ٹب میں بیٹھ جائیں، جب پانی کے اوپر زردی دیکھیں تو ایک غسل ظہر اور عصر کی نمازوں کے لیے، اسی طرح ایک غسل مغرب اور عشاء کی نمازوں کے لیے اور ایک غسل فجر کی نماز کے لیے کر لیا کریں اور ان کے مابین وضوء کرتی رہیں۔‘‘
Explanation
”انہیں چاہیے کہ وہ ایک ٹب میں بیٹھ جائیں، جب پانی کے اوپر زردی دیکھیں“ پھر نبی ﷺ نے انہیں حیض اور استحاضہ کے خون میں فرق کرنے کا طریقہ بتایا کہ وہ ایک ٹب (لگن) میں بیٹھ جائیں۔ اور وہ ایسا برتن ہوتا ہے جس میں کپڑے دھوئے جاتے ہیں۔ جب اس پانی کے اوپر جس ميں وہ بیٹھی ہوں زردی ديکھيں تو یہ اس بات کی دلیل ہوگی کہ وہ اپنے حیض سے پاک ہو چکی ہیں کیونکہ حیض کا خون سیاہ اور گاڑھا ہوتا ہے، اس کے علاوہ ہر خون استحاضہ کا خون ہوتا ہے۔
”تو ایک غسل ظہر اور عصر کی نمازوں کے لیے، اسی طرح ایک غسل مغرب اور عشاء کی نمازوں کے لیے اور ایک غسل فجر کی نماز کے لیے کر لیا کریں“ یعنی جب پانی پر زردی دیکھ لیں تو پھر دن رات میں تین دفعہ غسل کریں۔ ایک غسل ظہر اور عصر کی نمازوں کے لیے، ایک غسل مغرب اور عشاء کی نمازوں کے لیے اور ایک غسل فجر کی نماز کے لیے۔
”اور ان کے مابین وضو کرتی رہا کریں“ یعنی ان (فرض) نمازوں کے مابين اگر کوئی اور نماز پڑھنا چاہیں تو ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے وضو کریں جب کہ انہوں نے ایک ناقضِ وضو کو دیکھا ہے۔ اس صورت میں وہ غسل نہیں کریں گی کیونکہ غسل پنچ وقتہ فرض نمازوں کے ساتھ مخصوص ہے۔
یہ غسل مستحب ہے، واجب نھیں ہے، جیسا کہ دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

