زکوة کی دو قسمیں ہیں

لوحة الزکاة (اللغة الأردية)

*زکوٰۃ کی چارٹ:* یہ شیخ ڈاکٹر ہيثم سرحان کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے زکوة کے واجب اور مستحب پہلوؤں سے متعلق اہم مسائل کو بیان کیا ہے۔ اس میں زکوة کی تعریف، وہ اموال جن پر زکوة واجب ہوتی ہے، اور وہ افراد جنہیں زکوة دی جا سکتی ہے، نیز زکوة سے متعلق اہم فقہی احکام کو ایک جامع چارٹ میں پیش کیا گیا ہے۔

#صدقہ فطر (زکاة الفطر)

اپنے روزے کو کمیوں کوتاہیوں سے کیسے پاک کریں؟!
فقراء اور مساکین کے دلوں میں خوشی کیسے داخل ہو، تاکہ وہ عید میں ویسے خوش ہوں جیسے آپ خوش ہوتے ہیں؟!
اس اثر پر غور کریں: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کو فرض کیا۔ یہ روزہ دار کے لیے لغو اور فحش باتوں سے پاکیزگی نیز مسکینوں کے لیے کھانا ہے۔
صدقہ فطر ادا کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے؛ اپنی طرف سے اور ان سب کی طرف سے جن کا نان و نفقہ اس کے ذمہ ہے جیسے کہ اس کے بیوی اور بچے۔
اگر اس کے پاس اپنے اور اپنے اہل و عیال کی ایک دن کے خوراک سے زائد ہو۔
یہ ضروری نہیں ہے کہ اس کے پاس ایک خاص رقم ہو۔
اور اس کی مقدار ایک صاع ہے جو ہر شخص پر واجب ہے، اس غلہ اور پھل میں جسے لوگ کھاتے ہیں۔ جیسے کھجور، چاول اور دال۔
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کو بمقدار ایک صاع کھجور یا جَو ہر مسلمان غلام اور آزاد، مرد و عورت، جوان اور بوڑھے سب پر عائد کیا ہے۔
اور آپ نے حکم دیا ہے کہ لوگوں کے نماز کے لیے نکلنے سے پہلے اسے ادا کر دیا جائے۔ آخری رمضان کو غروب آفتاب کے ساتھ ہی اس کی ادائیگی واجب ہو جاتی ہے۔
افضل یہ ہے کہ اسے عید کی نماز سے پہلے نکال دیا جائے۔
اور عید سے ایک دو دن پہلے نکالنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے یعنی اٹھائیسویں رات کو۔ کیونکہ مہینہ کبھی انتیس کا ہوتا ہے اور کبھی تیس کا۔
اور اس کو نماز عید کے بعد تاخیر کرنا جائز نہیں۔
جو اسے عید کے دن نہ نکالے وہ گنہگار ہے۔ الا یہ کہ کوئی عذر ہو چنانچہ ایسی صورت میں اس کا قضا واجب ہے۔
لہذا اس کی ادائیگی میں جلدی کریں۔

حكم زكاة الفطر (اللغة الأردية)

صدقہ فطر کا حکم (اردو زبان)

واجب ہے:
- ہر شخص پر جو رمضان کے آخری دن کا سورج غروب ہونے کے وقت موجود ہو اور مسلمان ہو؛ خواہ بڑا ہو یا چھوٹا، مرد ہو یا عورت، غلام ہو یا آزاد۔
- اور اس کے پاس عید کے دن اور رات کی اپنی اور اپنے اہل و عیال کی خوراک اور بنیادی ضروریات سے ایک صاع زیادہ ہو۔

مستحب ہے:
* جنین یعنی ماں کے پیٹ میں موجود بچے کی طرف سے۔
۔۔۔۔۔
صدقہ فطر کی مشروعیت کی حکمت:
* روزہ دار کے لئے بے ہودہ اور فحش باتوں سے پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔
* اس میں فقراء اور مساکین کے لئے عید کے دن (لوگوں سے) مانگنے سے بے نیازی ہے۔

۔۔۔۔۔

صدقہ فطر نکالنے کا وقت

- جواز کا وقت: عید سے ایک یا دو دن پہلے۔
* مستحب وقت: عید کی نماز سے پہلے، فجر کے بعد۔
* حرام وقت: عید کی نماز کے بعد۔
۔۔۔۔۔

صدقہ فطر میں کیا دینا کافی ہے؟

* انسانوں کی عام خوراک میں سے ایک صاع دینا۔ عمدہ گندم کے ایک صاع کی مقدار دو کلو اور چالیس گرام (2040 گرام) بنتی ہے، اور ہر خوراک کے حساب سے اس کی مقدار مختلف ہوتی ہے۔
* نقد رقم (پیسوں) کی صورت میں دینا کافی نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔

مشہور اجناس کے لحاظ سے صدقہ فطر کی مقدار (وزن کے اعتبار سے)

- آٹا: 1400 گرام
- سوجی: 2000 گرام
- چاول: 2300 گرام
- گندم: 2040 گرام
- دال: 2100 گرام
- چنا: 2000 گرام
- لوبیا: 2060 گرام
- کھجور: 1800 گرام
- کشمش: 1640 گرام

۔۔۔۔۔

لینے والے اور مقدار کے اعتبار سے زکوٰۃ / صدقات کی اقسام:

1- جس میں دی جانے والی مقدار مقرر ہو، دینے والے اور لینے والے سے قطع نظر؛ جیسے صدقہ فطر۔

2- جس میں دی جانے والی مقدار اور لینے والے دونوں مقرر ہوں؛ جیسے فدیہ اذیٰ؛ "چھ مساکین کو کھانا کھلاؤ، ہر مسکین کے لئے آدھا صاع"۔

3- جس میں لینے والا مقرر ہو، لیکن دی جانے والی شے (یا اس کی قطعی مقدار) نہیں؛ جیسے قسم کا کفارہ۔

Shopping Basket