صدقہ فطر کا حکم
حكم زكاة الفطر (اللغة الأردية)
صدقہ فطر کا حکم (اردو زبان)
واجب ہے:
- ہر شخص پر جو رمضان کے آخری دن کا سورج غروب ہونے کے وقت موجود ہو اور مسلمان ہو؛ خواہ بڑا ہو یا چھوٹا، مرد ہو یا عورت، غلام ہو یا آزاد۔
- اور اس کے پاس عید کے دن اور رات کی اپنی اور اپنے اہل و عیال کی خوراک اور بنیادی ضروریات سے ایک صاع زیادہ ہو۔
مستحب ہے:
* جنین یعنی ماں کے پیٹ میں موجود بچے کی طرف سے۔
۔۔۔۔۔
صدقہ فطر کی مشروعیت کی حکمت:
* روزہ دار کے لئے بے ہودہ اور فحش باتوں سے پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔
* اس میں فقراء اور مساکین کے لئے عید کے دن (لوگوں سے) مانگنے سے بے نیازی ہے۔
۔۔۔۔۔
صدقہ فطر نکالنے کا وقت
- جواز کا وقت: عید سے ایک یا دو دن پہلے۔
* مستحب وقت: عید کی نماز سے پہلے، فجر کے بعد۔
* حرام وقت: عید کی نماز کے بعد۔
۔۔۔۔۔
صدقہ فطر میں کیا دینا کافی ہے؟
* انسانوں کی عام خوراک میں سے ایک صاع دینا۔ عمدہ گندم کے ایک صاع کی مقدار دو کلو اور چالیس گرام (2040 گرام) بنتی ہے، اور ہر خوراک کے حساب سے اس کی مقدار مختلف ہوتی ہے۔
* نقد رقم (پیسوں) کی صورت میں دینا کافی نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔
مشہور اجناس کے لحاظ سے صدقہ فطر کی مقدار (وزن کے اعتبار سے)
- آٹا: 1400 گرام
- سوجی: 2000 گرام
- چاول: 2300 گرام
- گندم: 2040 گرام
- دال: 2100 گرام
- چنا: 2000 گرام
- لوبیا: 2060 گرام
- کھجور: 1800 گرام
- کشمش: 1640 گرام
۔۔۔۔۔
لینے والے اور مقدار کے اعتبار سے زکوٰۃ / صدقات کی اقسام:
1- جس میں دی جانے والی مقدار مقرر ہو، دینے والے اور لینے والے سے قطع نظر؛ جیسے صدقہ فطر۔
2- جس میں دی جانے والی مقدار اور لینے والے دونوں مقرر ہوں؛ جیسے فدیہ اذیٰ؛ "چھ مساکین کو کھانا کھلاؤ، ہر مسکین کے لئے آدھا صاع"۔
3- جس میں لینے والا مقرر ہو، لیکن دی جانے والی شے (یا اس کی قطعی مقدار) نہیں؛ جیسے قسم کا کفارہ۔